The Revival Mentor

Blog

جب بھی کوئی   شخص  یا کوئی اجتماعیت  اپنے نظریات کو ایک ترتیب کے ساتھ اور ایک دورانیے میں  بار بار دہرا کر لوگوں کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کرتی ہے ، تو بیانیہ (Narrative) وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی حریف اس بیانیے کے خلاف کوئی دوسرا بینایہ  پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو  اسے جوابی بیانیہ (Counter Narrative) کہا جاتا ہے۔ ان اصطلاحات کا  استعمال آج کل   عمرانیات(Social Studies) اور انسانیات (Humanities)میں بکثرت ہوتا ہے۔  فروری ۲۰۱۵ میں ملک کے معروف مذہبی سکالر محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے تصور دین اور اس کے مطالبات  کے حوالے سے رائج  روائیتی  بیانیے(Traditional Narrative)  کی اصلاح  کے لیے  ایک جوابی بیانیے (Counter Narrative) کا  مختصر تعارف پیش کیا ۔ اس بیانیے کے تحت  انہوں نے دین کے دیگر تصورات مثلاً  ریاست ، حکومت، مسلم قومیت ، شورایت  ،ارتدادوغیرہم کو بھی  موضوع بحث بنایا  ۔اس  کے ر د عمل میں ملک کے دیگر جید علماء اور دانشوروں  کی طرف سے   بھی   تناقید کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس کے بعد محترم غامدی صاحب نے اپنے وضاحتی بیانات میں ان اعتراضات کا جواب دیا جو مذکورہ  علما ء و دانشوروں نے اٹھائے تھے ۔ حال ہی میں ان کے کچھ خطبات جو انہوں نے جون ۲۰۱۵ میں امریکہ کی ریاست ڈالاس(Dallas) میں  دیے  تھے منظر عام پر آئے ہیں جس میں انہوں نے  اس جوابی بیانیہ کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

اس مضمون میں  جوابی بیانیے کے تحت محترم غامدی صاحب کے پیش کردہ  دیگر دینی تصورات کی بجائے اس  کی   بنیاد کو زیر غور لایا گیا ہے۔ اس جوابی بیانیے کی بنیاد   دو قرآنی اصولوں پر   استوار ہوتی ہے جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتب میزان اور برہان  میں تفصیلا ً کیا ہے۔ ایک ہے قانون اتمام حجت اور دوسرا ہے غیر مسلموں کے ضمن میں  سرزمین عرب کی امتیازی حیثیت  ۔ یہ دونوں اصول  یقیناً قرآنی اصول ہیں ،پر جیسا کے ذیل میں واضح کیاگیا ہے،ان کی جو توجیہ  محترم غامدی صاحب نے پیش کی ہے سراسر غلط ہے اور قرآنی نظریے کے خلاف ہے۔

قانون اتمام حجت:

محترم غامدی صاحب کے نزدیک قانون اتما م حجت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  اپنے رسل (علیہم السلام) کو  مبشر و منذر بنا کربھیجتا رہا ، جو اپنی قوم کے سامنے قولاً و عملاًحق  واضح کر دیتے تھے  ۔ اب اس کے باوجود اگر کوئی قوم رسول کو جھٹلاتی تھی تو اس پر رب کی طر ف سے ایک عذاب نازل ہو تا تھا۔ یہ عذاب کبھی  سیلاب، کبھی آندھی ، کبھی زلزلے  ، کبھی  چنگھاڑ وغیرہ کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا رہا،  اور کبھی اس کا ظہور رسل اور  ان کے متبعین کے ہاتھوںشکست کی صورت میں  ہوا  ۔یہ سلسلہ رسول اکرم ﷺ پر آکر ختم ہو گیا۔ اس لیے اب اتمام حجت ممکن نہیں ہے   ۔ اور چونکہ اتمام حجت  ممکن نہیں ہے اس لیے کسی بھی ملک  کے خلاف اب محض دین  کے نفاذ کے لیے جہاد کرنا  دین کا تقاضہ نہیں ہے۔ ہاں اگر  کسی ملک کی طرف سے  کوئی  ظلم  یا عدوان کا ارتکاب ہوتا ہے  تو اس کے خلاف جہاد دینی  فریضہ ہے جس کو ان اخلاقی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے  سرانجام دیا جائےگا جس کی وضاحت قرآن میں کر دی گئی ہے۔ غامدی صاحب  ’میزان ‘میں لکھتے ہیں :

’ یہ جہاد و قتال ہے ، لیکن اِس کا حکم قرآن میں دو صورتوں کے لیے آیا ہے:

ایک ،ظلم و عدوان کے خلاف

دوسرے ، اتمام حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف

پہلی صورت شریعت کا ابدی حکم ہے اور اِس کے تحت جہاد اُسی مصلحت سے کیا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے ۔ دوسری صورت کا تعلق شریعت سے نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت سے ہے جو اِس دنیا میں ہمیشہ اُس کے براہ راست حکم سے اوراُنھی ہستیوں کے ذریعے سے روبہ عمل ہوتا ہے جنھیں وہ رسالت کے منصب پر فائز کرتا ہے ۔ انسانی تاریخ میں یہ منصب آخری مرتبہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے۔۔۔‘

]جاوید احمد غامدی،’میزان۔قانون جہاد‘، المورد[

یہ قانون یقیناً  قرآن میں موجود ہے  اور یہ بات بھی درست ہے کہ اتمام حجت کے لیے رسول کا ہونا ضروری ہے ۔ پر محترم غامدی صاحب کی نگاہوں سے نا جانےکیوں یہ حقیقت اوجھل ہو گئی کہ محمد ﷺ پر نبوت کا اختتام ہو ا ہے رسالت کا نہیں۔  کار رسالت کے لیے اب اللہ تعالی نے امت محمدی  ﷺ کو تائینات کر دیا ہے۔ یہ اتنا بڑا قرآنی تصور ہے جس  کو  کوئی بھی قرآن کا قاری نظر انداز نہیں کرسکتا۔ پورا قرآن اس حقیقت  کے اظہار سے بھرا پڑا ہے۔  سب سے پہلے  سورۃ نسا ء  آیت ۱۶۵ کو ہی لے لیجیے  جس میں یہ قانون بیان کیا گیا ہے :

رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ۔[نساء،۱۶۵]

ہم نے پیغمبر بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ ان لوگوں کے پاس  الله کے خلاف  پیغمبرو ں کے بعد کوئی حجت باقی  نہ رہے اور الله غالب حکمت والا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے  صرف قانون ِ اتمام حجت کوہی  پیش  نہیں کیا بلکہ اس کا مقصد بھی بتایا ہے  اور وہ یہ ہے کہ قیامت والے دن کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عذر نہ پیش کر سکے کہ اس کو  حقیقت کا  پتہ نہیں چل سکا۔  اگر غامدی صاحب کا موقف صحیح ہے تو کیا  رسول اکرم ﷺ اور صحابہ (  ؓ ) کے بعد قیامت تک آنے والے انسان اللہ کے خلاف قیامت والے دن  حجت لے کر کھڑے ہوں گے؟  ایسا سوچنا   ہی اللہ کی شان کے خلاف  ہے۔

غامدی صاحب کے نظریےکا ایک اور بھیانک نتیجہ بھی نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر رسول اکرم ﷺ کے بعد غیر مسلموں پر اتما م حجت نہیں ہو سکتا  تو خود مسلمانوں پر کیسے ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایساہےتو خود مسلمانوں کے لیے دین کی حیثیت  صرف  راہنما اصولوں تک رہ جائے گی اور شریعت کے تفصیلی احکامات کی پیروی کرنا ضروری نہ رہے گا ۔

بہر حال قانون اتمام حجت کے حوالے سے محترم غامدی صاحب کی  سمجھ مغالطہ انگیز ہے۔اس کے برعکس  قرآن کا تصور یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ نے امت محمدی ﷺ کو کار رسالت پرفائذ کیا   ۔سورۃ بقرہ   کی آیت  ۱۴۳ میں اللہ تعالی  نے امت مسلمہ کو  واضح الفاظ میں  یہ ذمہ داری عطا کی :

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔ [بقرۃ، ۱۴۳]

اور اسی طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو اور ہم نے وہ قبلہ نہیں بنایا تھا جس پر آپ پہلے تھے مگر اس لیے کہ ہم معلوم کریں اس کو جو رسول کی پیروی کرتا ہے اس سے جو الٹے پاؤں پھر جاتا ہےاور بے شک یہ بات بھاری ہے سوائے ان کے جنہیں الله نے ہدایت دی اور الله تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا بے شک الله لوگوں پر بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

اس کے علاوہ  سورۃ حج آیات ۷۵ تا ۷۸  میں تو’اصطفی اور  اجتبی ‘ کےا لفاظ کے ذریعے یہ حقیقت اور بھی  واضح ہو جاتی ہے۔

اللَّـهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ۔  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۗ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۩ ۔ وَجَاهِدُوا فِي اللَّـهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّـهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ ۔ [حج، ۷۵ تا ۷۸]

فرشتوں اور آدمیوں میں سے الله ہی پیغام پہنچانے کے لیے چن لیتا ہے بے شک الله سننے والا دیکھنے والا ہے ۔ وہ ان کے اگلے اور پچھلے حالات جانتا ہے اور سب کاموں کا مدار الله پر ہے ۔ اے ایمان والو رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو ۔ اور الله کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی تمہارے باپ ابراھیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام پہلے سےمسلمان رکھا تھااوراس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگو ں پر گواہ بنو پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور الله کو مضبوط ہو کر پکڑو وہی تمہارا مولیٰ ہے پھر کیا ہی اچھامولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ تمہیداً یہ واضح کرتے ہیں کہ  فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کا انتخاب کرنا  اللہ کی مرضی پر موقوف ہے۔ اور پھر ساتھ ہی یہ فیصلہ صادر ہو جاتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ نے اس امت  کو کار رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ کار رسالت کی ذمہ داری کی وجہ سے اب  اس امت کو بھی دیگر رسل (علیہم السلام ) کی طرح گواہی دینی ہے۔

فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ۔[اعراف، ۶]

پھر یہ بھی اللہ کی سنت  ہے کہ رسولوں کو ایسے ہی تائنات نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے ساتھ معجزات  اور کتاب بھی نازل ہوتی ہے۔اللہ تعالی کا ارشا د ہے:

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔[حدید، ۲۵]

ہم نے اپنے رسولوں کو معجزات دے کر بھیجا اور ان کے ہمراہ ہم نے کتاب اور ترازوئے (عدل) بھی بھیجی تاکہ لوگ انصاف کو قائم رکھیں اور ہم نے لوہا بھی اتارا جس میں سخت جنگ کے سامان اورلوگوں کے فائدے بھی ہیں اور تاکہ الله معلوم کرے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی غائبانہ مدد کرتا ہے بے شک الله بڑا زور آور غالب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق  امت مسلمہ کو بھی دونوں  چیزیں عطا کیں ۔ محمد ﷺ کے بعد کتاب اور معجزہ کو یکجا کر کے قرآن کی صورت میں محفوظ کر دینا ایسا اقدامِ الہی  ہے جو اس حقیقت کو اظہر من الشمس  کر دیتا ہے کہ آپﷺ کے بعد یہ امت ہی رسالت کی ذمہ داری ادا کرنے پر مامور ہے۔اب ان حقائق کی روشنی  میں اس تصور کی کوئی  جڑھ باقی نہیں رہتی  کہ اتمام حجت کرنے کا سلسلہ محمد ﷺ پر ختم ہو گیا۔

سرزمین عرب کی امتیازی حیثیت:

دوسراصول  یہ ہے کہ محترم غامدی صاحب کے نزدیک  کرہ عرضی کے  مقابلے میں سرزمین  عرب کی یہ  امتیازی   شان ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص کر لیا ہے۔یہ وہ  اسلامی ریاست ہے جس کی حدود خود اللہ نے طے کی ہیں۔ اس لیے اس میں اگر مسلمانوں  کی کوئی حکومت قائم ہوتی ہے تو  اس میں غیر مسلم  نہیں رہ سکتے۔ا س کے علاوہ دنیا کے کسی خطے میں اسلامی ریاست قائم کرنا جائز نہیں ہے۔غامدی صاحب لکھتے ہیں :

’ ایک، جزیرہ نمائے عرب کی ریاست جس کی حدود خود خالق کائنات نے متعین کر کے اُس کو اپنے لیے خاص کر لیا ہے۔ چنانچہ اُسی کے حکم پر اُس کی دعوت اور عبادت کا عالمی مرکز اُس میں قائم کیا گیا اور ساتویں صدی عیسوی میں آخری رسول کی وساطت سے اعلان کر دیا گیا کہ ’لا یجتمع فیھا دینان‘ ’’اب قیامت تک کوئی غیر مسلم اِس کا شہری نہیں بن سکتا۔‘‘ اِس سے پہلے کئی صدیوں تک یہی حیثیت ریاست فلسطین کی تھی۔ اسلام اور اسلامی شریعت کے مخاطب یہاں بھی اپنی مختلف حیثیتوں میں افراد ہی ہوں گے، تاہم اِس طرح کی ریاست کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ اِس کا مذہب اسلام ہے اور اِس میں حکومت بھی اسلام ہی کی ہو گی تو یہ تعبیر ہر لحاظ سے قابل فہم ہے۔ اِس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔‘  [جاوید احمد غامدی،’ریاست اور حکومت‘،المورد]

محمد ﷺ کے وصال کےبعد صحابہ ؓ نےجو روم و فار س کے خلاف جہاد جاری رکھا اور  وہاں دین نافذ کیا   ،اس کی  وہ یہ تاویل  کرتے ہیں کہ ان کی طرف بھی رسول اکرمﷺ نے چونکہ خود  خطوط بھیجے تھے اور اسلام کی دعوت خود رکھی تھی اس لیے ان پر بھی اتمام حجت ہو گیا تھا ۔ ان حکمرانوں کے علاوہ جن کو رسول اللہﷺ کےبراہ راست خطوط نہیں پہنچے اس حکم  کے تحت نہیں آتے۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’ ۔۔۔، لیکن اِس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت جزیرہ نماے عرب سے باہر قریب کی تمام قوموں کے سامنے بھی پیش کر دی۳۶؂ اور اُن کے سربراہوں۳۷؂ کو خط لکھ کر اُن پر واضح کر دیا کہ اب اسلام ہی اُن کے لیے سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔۳۸؂ اِس کے معنی یہ تھے کہ خدا کی جو حجت آپ کے ذریعے سے عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ پر قائم ہوئی ہے، وہ آپ کے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے جزیرہ نماسے باہر کی اِن قوموں پر بھی قائم ہو جائے گی۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد دنیا ہی میں جزا و سزا کے قانون کا اطلاق اِن قوموں پر بھی کیا جائے۔ چنانچہ یہی ہوا اور جزیرہ نما میں اپنی حکومت مستحکم کر لینے کے بعد صحابۂ کرام اِس اعلان کے ساتھ اِن اقوام پر حملہ آور ہو گئے کہ اسلام قبول کرو یا زیردست بن کر جزیہ دینے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔ اِس کے سوا اب زندہ رہنے کی کوئی صورت تمھارے لیے باقی نہیں رہی ۔ اِن میں سے کوئی قوم بھی اصلاً شرک کی علم بردار نہ تھی ، ورنہ وہ اُس کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرتے جو مشرکین عرب کے ساتھ کیا گیا تھا ۔

۳۶۔یہ  واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد ہوا، جب قریش کے ساتھ معاہدۂ امن کے نتیجے میں آپ کے لیے توسیع دعوت کے مواقع پیدا ہوئے۔
۳۷۔ ان سربراہوں کے نام یہ ہیں : ۱ ۔ نجاشی شاہ حبش ۔ ۲۔ مقوقس شاہ مصر ۔ ۳۔ خسرو پرویز شاہ فارس ۔ ۴۔ قیصر شاہ روم ۔ ۵۔ منذر بن ساوی حاکم بحرین ۔ ۶۔ ہوذہ بن علی صاحب یمامہ ۔ ۷۔ حارث بن ابی شمر حاکم دمشق ۔ ۸۔ جیفر شاہ عمان ۔‘

‘‘ [جاویداحمد غامدی،’میزان۔قانون جہاد۔ جہاد کا حکم حصہ دوم‘،المورد]

اس میں کوئی شک نہیں کہ سرزمین عرب کی یہ  ایک امتیاز ی شان ہےاور  سورۃ توبہ آیت ۲۸  اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۔[توبہ،۲۸]

اے ایمان والو! مشرک تو پلید ہیں سو اس برس کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آنے پائیں اور اگر تم تنگدستی سے ڈرتے ہو تو آئندہ اگر الله چاہے تمہیں اپنے فضل سے غنسی کر دے گا بے شک الله جاننے والا حکمت والا ہے۔

اس آیت میں    مسجد الحرام کا ذکر اس حکم کو حرم  اور حدود حرم یا سرزمین عرب  تک محدود کر تاہے ۔لیکن اس سے اگلی  آیت جسے آیت  سیف بھی کہا جاتا ہے میں تو ایسی کوئی قید نہین ہے۔بلکہ  اس آیت  اور اس کے بعدکی آیات میں   اللہ تعالی نے غیر مسلموں  سے  قتال  کی وجوہات بھی بیان کی ہیں   جو یہ ہیں:

۱۔ یہ اللہ اور آخرت کو نہیں مانتے

۲۔ ان باتوں کو حرام نہیں مانتے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے

۳۔ یہ دین حق کو تسلیم نہیں کرتے

۴۔ یہ عزیر اور عیسٰی (علیہما السلام)  کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں

۵۔انہوں نے اپنے  علماء و مشائخ  کو بھی   خدا بنا رکھا ہے۔

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ ۔ وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّـهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّـهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّـهُ ۚأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ۔ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۔ [توبہ، ۲۹ تا ۳۱]

ان لوگوں سے لڑو جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہلِ کتاب ہیں یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ۔ اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر الله کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں مسیح الله کا بیٹا ہے یہ ان کی منہ کی باتیں ہیں وہ کافروں کی سی باتیں بنانے لگے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں الله انہیں ہلاک کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا خدا بنا لیا ہے اور مسیح مریم کے بیٹےکو بھی حالانکہ انہیں حکم یہی ہوا تھا کہ ایک الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

اس آیت میں کہیں بھی مسجد حرام یا سرزمین عرب کی قید نہیں ہے۔۔کسی آیت یا حکم کو   کسی وقت، کسی حالت ،کسی فرد یا کسی گروہ (Time, Condition, Person or Group Specific)کے لیے خاص  کرنا اللہ کی مرضی پر موقوف ہے اور اگر وہ ایسا نہین کرتا تو کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کے اپنی مرضی سے کسی آیت  یا حکم پر کوئی قید ڈالے۔ ورنہ قرآن میں آیات کے اصل مخاطَب تو رسول ﷺ اور صحابہ ؓ ہی ہیں، اگر یہ قید ہم خود لگانے لگیں تو پورا دین  ہی رسولﷺ اور صحابہ ؓ ، ان کے علاقے اور ان  کے دور تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

محترم غامدی صاحب نےایک تواس آیت کو  اس سےسے پچھلی آیت سے منسلک کر کے مسجد حرم اور حدود حرم   کے لیے خاص کر دیا اور دوسرا اس  کو اہل کتاب کے ساتھ خاص کر دیا  جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ لغوی اعتبار سے بھی دیکھا جائے  تو غامدی صاحب  کا یہ  استخراج  محل نظر ہے۔ آیت سیف سے پچھلی آیت میں   اللہ کا حکم  دو لحاظ سے مقید ہے۔ ایک مشرکین کے  لیے اور دوسرا  حدود حرم کے لیے ۔اگر  غامدی صاحب آیت سیف کو اس سے پچھلی آیت کے ساتھ منسلک کرتے ہیں تو پھر دونوں قیود  آیت سیف پر بھی لاگوہونی چاہییں ۔ مطلب یہ ہے کہ پھر آیت سیف کا حکم مشرکین کے لیے بھی ہے اور حدود حرم کے لیے بھی ۔او ر اگر ایسا ہے تو پھر ان دونوں آیات میں تضاد واقعہ ہو جائے گا۔ گویہ کہ ایک آیت میں اللہ مشرکوں کو حدود حرم سے نکالنے  کا حکم دے رہا ہے اور دوسری آیت میں ان  سے جزیہ لینے  کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ یقیناً بعید از قیاس ہے۔

اس کے علاوہ غامدی  صاحب آیت سیف کو اہل کتاب کے لیے مخصوص کر رہے ہیں  جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔اگر یہ آیت اہل کتاب کے لیے خاص ہوتی تو  ’قاتلو۱ الذین اوتول کتاب ‘  سے اس کا آغاز ہونا چاہیے تھا۔جبکہ اہل کتاب تو ’مِن الذین اوتوالکتاب ‘ کے الفاظ کے ساتھ ’من بیانیہ‘کے ذریعے اس حکم میں اضافی طور پربیان  کیے جا رہے ہیں  ۔بہر حال  عبارت  از خود یہ حقیقت واضح کر رہی ہے  کو دونوں آیات  میں دو مختلف احکامات دیے جا رہے ہیں ایک حدود حرم کے لیے ہے اور دوسرا اس سے باہر  پوری دنیا کے لیے ہے۔اس کی تائید ان مواتر احادیث سے بھی ہوتی ہے  جن میں عیسیٰؑ کے دنیا میں دوبارہ واپس آنے کے بعدصلیب توڑنے،   خنزیرہلاک کرنے اور جزیہ موقوف کرنے  کا ذکر ہے۔ان   احادیث  کے عبارتوں میں  کہیں سے   بھی یہ اشارہ نہیں ملتا  کہ عیسیٰؑ جزیہ کو سرزمین عرب  یا حدود حرم  سے موقوف  کریں گے۔

اس کو سابقہ اصول کی روشنی میں دیکھیں تو حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ محمد ﷺ کتاب اور معجزہ کے ذریعے ہی اتمام حجت کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں محفوظ کر دیے اور  کار رسالت کی ذمہ داری امت مسلمہ کو دے دی تو اب کیا وجہ ہے کہ  مسلمان رسول اللہ اور صحابہ کرام (رضی اللہ  عنہم)کے نقش قدم پر چل کر  پوری دنیا پر اتمام حجت نہ کریں اور ان کو ماتحت کرنے کی کوشش نہ کریں؟

محترم غامدی صاحب نے اپنے خطبات میں خود فرمایا ہے کہ  اس روائتی بیانیہ کو اگرمستند اسلامی  تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے  تو   یہ اس کے برعکس کسی اور بیانیے کو اگل دیتی ہے۔ بین ہی یہی  معاملہ قرآن کاہے  کہ جس روائتی بیانیے کو محترم نے غلط قرار دیا ہے اس کے علاوہ کسی اور بیانیے کا قرآن بھی ویسا ہی حشر کرتا ہے۔اس حوالے سے قرآن کا بیانیہ کیا ہے اس پر انشاء اللہ اگلی قسط میں بات ہو گی۔

محترم غامدی صاحب کے پیش کردہ جوابی بیانیے کی بنیاد وں کو سمجھنے کے بعد ان ضمنی موضوعات کا جائزہ لیا جائے جن کا ذکر انہوں  نے اس بیانیے کے تحت کیا ہے تو  ان کا بھی انہیں بنیادی اصولوں سے تعلق واضح طور پر نظر آجاتا ہے۔مثلاً غامدی صاحب  کے نزدیک ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ظاہر ہے جب اتمام حجت نہ ہونے کی صورت میں اسلامی ریاست قائم کرنا ضروری ہی نہیں تو پھر  ریاست کو اسلامی اصولوں  کے مطابق  لانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگریہ ایک دینی ذمہ داری ہے تو  پھرریاست کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنا ضروری ٹھہرے گا۔ان کے نزدیک خلافت کا قیام کوئی دینی فریضہ نہیں ہے۔ظاہر ہےجب اتمام حجت کی غیر موجودگی میں دین کا نفاذ کسی ایک خطے میں  بھی ضروری  نہیں  تو  عالمی سطح پر ایک ریاست ہائے متحدہ یا عالمی خلافت   قائم کرنا کیسے ضروری  ہو سکتاہے۔اسی طرح ان کے نزدیک اسلام میں قومیت کی بنیاد اسلام  نہیں ہے۔ظاہر ہے جب اتمام حجت نہیں کیا  جا سکتا  اور اس وجہ سے کوئی اسلامی نظریے کی بنیاد پر ریاست بھی قائم نہیں کی جاسکتی تو پھرمسلمانو ں کی نظریاتی قومیت بھی وجود نہیں رکھ سکتی ۔ فطری طور پر ظہور پذیر ہونے والی قومیتوں کو ہی تسلیم کرنا چاہیےجیسا کہ موجودہ دور میں جغرافیائی قومیتیں ظہور پذیرہوئی ہیں ۔ لیکن اگر اتمام حجت ہو سکتا  ہے   تو پھر اسلامی ریاست کی سرحیدں تو پوری دنیا کا احاطہ کریں گی ، اس کی کوئی لسانی، نسلی یا جغرافیائی   بنیاد پر سرحد بندی نہیں کی جا سکے گی۔اس معنی میں دیکھا جائے تو  قومیت کی دیگر بنیادوں  کی  طرح  اسلامی نظریہ بھی مسلم قومیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔اسی طرح  غامدی صاحب کے نزدیک ارتداد اور تکفیر   کا فیصلہ کرنا اور اس کی سزا دینااب رسول اکرم ﷺ کے بعد صرف اللہ کا حق ہے۔ یہاں بھی وہی تعلق ہے کہ جب اتمام حجت ہو نہیں سکتا تو پھر کسی  مسلمان کو مرتد  یا کسی مسلمان گروہ کو کافر قرار دینا مسلمانوں کا حق نہیں ہے۔ غرضیکہ یہ سب نظریات بھی اصلاً غامدی صاحب کے انہی دو بنیادی اصولوں سےمنسلک  ہیں جن کے ابطال کے بعد ان کی بھی کوئی  بنیاد باقی نہیں رہتی۔

This website uses cookies and asks your personal data to enhance your browsing experience. We are committed to protecting your privacy and ensuring your data is handled in compliance with the General Data Protection Regulation (GDPR).