The Revival Mentor

Blog

جاوید احمد غامدی صاحب  اسلام کے  احیائی و انقلابی فکر کے ایک مشہور ناقد ہیں  ۔اس ضمن میں ان کا مضمون’ اہل بیعت کی خدمت میں ‘ جو1993ء میں شائع ہوااور اب  ان کی کتاب ’برہان‘     میں موجود ہے اہمیت کا حامل ہے ۔ اس مضمون  میں انہوں  نے ڈاکٹر اسرارؒ کے  پیش کردہ انقلابی فکر پر بالخصوص نقد فرمایا ہے۔ اس آرٹیکل میں ان کے اس مضمون  کا مختصراً تنقیدی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین  رہنی چاہیئے  کہ شریعت کے کسی حکم یا  اس  کی کسی علت کو  نصوص قرآن و سنت  سے ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔ سیرت کے واقعات  سےان کا استخراج کرنا درست نہیں۔  سیرت   سے محض  اس  منہج  کو سمجھا جا سکتا ہے  جو کسی  حکم  الٰہی کو پورا کرنے کے لیے رسول اکرم ﷺ  نے اختیار کیا۔اس  لیے سیرت  کے اقعا ت  کا مطالعہ کرتے وقت اس  حکم الٰہی کا کھوج لگانا نہایت ضروری ہوتا ہے جو اس کے پیچھے کار فرما ہے  ۔اس اہم  اصول کا ادراک حاصل کرنے کے بعدجس کی مزید وضاحت آگے آئے گی   ہم ایک ایک کر کےمندرجہ ذیل تین بڑے نکات  پر بحث کرتے ہیں جو  غامدی صاحب کے مضمون میں اجاگر کیے گئے ہیں۔

کیا  کسی تنظیم کے امیر کے لیے بیعت سمع و طاعت کی دلیل سیرت سے لی جا سکتی ہے ؟

اس ضمن میں  سب سے پہلے یہ دیکھنا  ضروری ہے    کہ آیا رسو ل اکرم ﷺ کی مکے میں ہونے والی جدوجہد منظم تھی یا نہیں۔کیا رسول اکرم ﷺ کی حیثیت محض ایک  عالم دین اور مبلغ کی تھی ؟ کیا صحابہ ؓ   کی حیثیت ان کے محض طلباء یا ان کے لیکچر سننے والے سامعین  کی تھی جو ان سے دین کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آزاد تھے   کہ جس طرح چاہیں رہیں؟ اس دور میں نازل ہونے والی آیات    اور سیرت کے واقعات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ بلکہ رسول اکرم ﷺ محض ان کے استاذ  نہیں تھے بلکہ ہر آن  ان کے رہبر اور مربی  بھی تھے ۔ جو بھی مسلمان  ہوتا  وہ اس جماعت کاحصہ بن جاتا ۔ یہ سب    ایک دوسرے کے ممدو معاون  تھے۔ باقائدہ آپس میں مل کراپنی  سر گرمیاں رسول اکرم ﷺ کی قیادت میں ترتیب دیتے تھے ۔  یہ سب  دار ارقم میں رسول اکرم ﷺ کے پاس محض دین سیکھنے کے لیے حاضر نہ ہوتے تھے بلکہ آئندہ کا لائحہ عمل  بھی یہیں طے ہوتا تھا۔   ہجرت حبشہ کا واقعہ ہی لے لیجیئے۔ کیا  یہ ایک منظم مہم نہیں تھی جو رسول اکرم ﷺ کی ہدایات کے مطابق حضر ت جعفر ظیارؓ کی قیادت میں عمل میں آئی؟

اگر اس تعصب و عداوت کی عینک اتار  کر دیکھا جائے  تو بات  بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اکرم ﷺ او رصحابہ ؓ   ایک منظم جماعت کی شکل میں  ہی مکے میں برسر پیکار تھے  ۔ بلکہ یہ تو ایک فطری امر ہے ۔ آپ ﷺ  اور صحابہ ؓ کی جگہ کوئی اور اشخاص بھی اس صورتحال میں ہوتے تو  ان کے پاس بھی منظم ہونے کے  سوا کئی چارہ نہ ہوتا ۔  اس لیے جماعت کی شکل اختیار کرنا  ایک فطری امر ہے ۔ کوئی بھی اگر ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو اس اکیلے  کے بس میں نہ ہو تو وہ اس کے لیے ایک جماعت بناتا ہے اور یہی آ پﷺ نے بھی کیا   کیونکہ آپ کے ذمے ایک ایسی ذمہ داری لگائی گئی تھی جو اکیلے آپ کے بس میں نہیں تھی :

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ﴿٩﴾[صف]

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

یہی معاملہ صرف آپ ﷺ کا ہی نہی  بلکہ  سابقہ انبیاء و رسل علیہم السلام کا  بھی تھا۔مثلاً قرآن میں عیسی ابن مریم  علیہما لسلا م کا اپنے حواریوں کو یہ کہنا کہ’من انصاری الی اللہ‘ اور ان کا یک زبان ہو کر کہنا ’نحن انصار اللہ ‘   کیا ایک منظم جدوجہد کا  عہد و پیمان تھا یا وہ محض عیسیؑ کے واعض کے سامعین تھے اور بس؟

چنانچہ ثابت ہوا کہ مکی دور میں بھی آپ ﷺ کی جدوجہد ایک منظم جدوجہد تھی اور آپ ﷺ او ر صحابہ ؓ ایک   جماعت کی صورت میں منظم تھے۔اور یہی اصل  سمجھنے   کی بات ہے باقی رسول کرم ﷺ اور صحابہ ؓ کے مابین  اس ضمن میں کوئی باقائدہ معاہدہ   ہاتھ  پر ہاتھ رکھ کر ہوا تھا یا نہیں ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔آج بھی اگر کوئی شہاد علی الناس اوراقامت دین یا غامدی صاحب کے بقو ل’دعوت اورصرف دعوت  ‘ کی ذمہ داری ادا کرنا چاہتا ہے تو لامحالہ اسے   ایک جماعتی شکل میں ہی منظم ہونا ہے  ،اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ اس ضمن میں ڈاکٹر اسرار ؒ    نے جو اضافی کام کیا صرف یہ تھا کہ اس منظم جدوجہد  کے لیے جو عہد و پیمان کے الفاظ تھے وہ بیعت عقبہ ثانیہ والی   حدیث سے لے  کر اس میں ’فی المعروف‘ کی  ترمیم کے ساتھ اپنا لیے  ۔ ورنہ اگر وہ ان الفاظ کی جگہ کوئی اور الفاظ بھی استعمال کر لیتے تو تنظیم کا قیام پھر بھی  وجود میں آجاتا، اس بات کو انہوں نے بارہا واضح کیا ہے ۔اس ضمن میں ان کا مقصد صرف   اتباع سنت تھا  ۔ انہوں نے کبھی یہ دعوی  نہیں کیا کہ وہ حاکم کی حیثیت سے یہ  بیعت لے رہے ہیں۔ اس لیے اس سے قطع نظر کہ بیعت عقبہ ثانیہ جماعت سازی کی بیعت تھی یا قیام حکومت کی،  اس بیعت کے الفاظ کو ’فی المعروف‘ کے اضافے کے ساتھ استعمال کرنے میں کوئی شرعی اعتراض نہیں بنتا۔

کیا مدینہ ایک اسلامی ریاست تھی؟

کیا قتال کسی حاکم کے  علاوہ کسی امیر  کی   قیادت میں کیا جا سکتا  ہے؟

یہ دونوں نکات ایک دوسرے سے منسلک ہیں اس لیے ان کا ایک ساتھ جواب دینا ضروری ہے ۔  اس ضمن میں حیرانگی یہ ہے کہ مدینہ کو اسلامی ریاست قرار دینے والے یہ بھی خیال نہیں رکھتے کہ مکہ اور مدینہ میں اس وقت ایک قبائلی نظام رائج   تھا جبکہ ریاست کا تصور  ایک جدید تصور ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق  ہے۔ کیا کوئی ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں کچھ شہریوں کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ اگر چاہیں تو ریاست کے قانون کے مطابق فیصلے کرائیں یا چاہیں تو خود ہی اپنے فیصلے  کر لیں؟ جبکہ مدینہ میں کم از کم صلح حدیبیہ تک یہودیوں کے لیے یہی بندوبست تھا (فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ۔۔’مائدہ‘) ۔ پھر کیا کوئی ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں ایک ہی جرم کے ارتکاب پر کچھ کو سزا دی جائے اور کچھ کو نہ دی جائے؟ جبکہ مدینے کی ’ریاست ‘میں واقعہ افک کے بعد    مومنین پر تو حد قذف لگی پر  منافقین جو اس  سارے فتنے کے موجب تھے پر کوئی حد نہیں لگی۔اس طرح کے کئی اور واقعات  اور امور پیش کیے  جا سکتے ہیں جو مدینہ کو ایک اسلامی ریاست قراردینے میں مانع ہیں۔

خیر طوالت بحث سے بچنے کے لیے   فی الحال ہم یہی فرض کر لیتے ہیں کہ مدینہ ایک اسلامی ریاست ہی تھی  پر تب بھی اس سے وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو نکالا  جا رہا ہے کہ اسلامی ریاست قائم کرنےسے پہلے کوئی جہاد و قتال  نہیں ہو سکتا ۔ اس ضمن میں سورۃ نساء کی آیت ملاحظہ ہو:

أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّواْ أَیْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ وَآتُواْ الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلا ۔ [سورہ النساء(4)، 77]

کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نمازیں پڑھتے رہو اور زکوٰہ ادا کرتے رہو ۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسا اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو ، بلکہ اس سے بھی زیادہ ، اور کہنے لگے اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر جہادکیوں فرض کر دیا؟کیوں ہمیں تھوڑی زندگی اور نہ جینے دی؟آپ کہہ دیجیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیز گاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا۔

اس  آیت سے   یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مکی  زندگی میں بھی صحابہؓ جہاد و قتال کرنا چاہتے تھے  مگر رسول اکرم ﷺ نے انہیں ’کفو ایدیکم ‘کا حکم دیا ۔ اب مکی دور میں نازل ہونے والے قرآن اور  اس دور کی احادیث و  واقعات   میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ رسول اکرم ﷺ نے صحابہ ؓ کو یہ ’فلسفہ‘بتایا ہو کہ  جہاد و قتال فی سبیل اللہ تو کسی حاکم کی قیادت میں ہی ہو سکتا ہے  اور میں فی الحال  کوئی حاکم نہیں ہوں، اس لیے ابھی محض ’دعوت اور صرف دعوت ‘ کا کام جاری رکھو!۔ اس لیےجو  حاکم کی  موجودگی  کو جہاد وقتال فی سبیل اللہ کی علت قرار دے رہے ہیں ان  پر اس ضمن میں کوئی واضح  نص پیش کرنا لازمی ہے، محض سیرت کے واقعات سے یہ  نص اخذ نہیں کی جا سکتی۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ  جہاد فی سبیل اللہ کا   حکم نازل ہو اتو اس  کے ساتھ اس کی علتیں  بھی واضح کر دی گئیں  ، جن میں کہیں اس علت کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس حکم کی تعمیل کے لیے پہلے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے؟

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ۔[بقرہ،۱۹۳]

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)۔

وَقَاتِلُوہُم حَتّٰی لَا تَکُونَ فِتنَتٌ وَّ یَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ ِ للہ۔ [انفال،۳۹]

اور ان سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ فرو نہ ہو جائے اور دین کل کا کل اللہ کے لیے نہ ہو جائے۔

چنانچہ ثابت ہوا کہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے حکم کی وجوبیت کی ایک علت دین کا کلی طور پر اللہ کا نہ ہونا ہے۔ اب یہ صورت تو مکی دور میں موجود تھی ، پر اس کے باوجود آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو’کفو ایدیکم ‘ کا حکم دیا۔ اگر حاکم کا موجود ہونا جہاد وقتال کی وجوبیت کی علت نہیں تو پھر  وہ کیا سبب تھا کہ آپ ﷺ نے صحابہ ؓکو اس حکم کی تعمیل سے روکا۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل آیت ایک اور علت پر روشنی ڈالتی ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴿٦٥﴾ الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿٦٦﴾ [سورۃالانفال]

اے نبیؐ، مومنوں کو جنگ پر اُبھارو اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے ۔اچھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے، اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں ۔

چنانچہ ثابت ہوا کہ صحابہ ؓ کے استفسار پر رسول اکرم ﷺ کا ’کفو ادیکم ‘کہنا صرف اسی لیے تھا کہ صحابہؓ کے پاس اس وقت تک  مشرکین مکہ سے لڑنے کے  اسباب موجود نہ تھے۔چنانچہ جہاد و قتا ل فی سبیل اللہ کے وجوب کی دو ہی  علتیں قرآن و سنت سے ثابت ہوتی ہیں ایک  کل دین ا للہ کے لیے نہ ہونا اور دوسرا اس کے لیے مطلوبہ  اسباب کا محیا ہونا۔چنانچہ جہاں یہ دونوں علتیں  موجود ہوں وہاں جہاد وقتا ل فی سبیل اللہ واجب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ایک علت تو پہلے ہی موجود تھی   ،جب اہل یثرب نے آپ کو تمکن دے دیا تو اس کے بعد دوسری علت بھی پوری ہوگئی اور جہا دو قتال   کے حکم کی تعمیل کا آغاز ہو گیا۔چنانچہ یہ ثابت ہو گیا کہ جب بھی یہ دو علتیں موجود ہوں جہاد و قتال فی سبیل اللہ واجب ہو  جاتا ہے۔ یہی اس  حکم کی اصل تشریح ہے۔اب یہ نہ ہو کہ ’فقیہان حرم ‘جہاد و قتال فی سبیل اللہ کےاسبا ب کے حصول کی جدوجہد کرنے کی بجائے محض ان کے حصول کے لیے دعا کرنے کا فلسفہ گھڑ لائیں۔اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ ﷺ  ہاتھ پر ہاتھ دھرے محض ان أسباب کے حصول کی دعا کر کے بیٹھے نہیں رہے بلکہ اس کی بھرپور کوشش کی بھی ہے۔

اس تجزیے سے اس اہم اصول کی بھی وضاحت ہو  جاتی جس کا ذکر آغاز میں کیا گیا تھا کہ شریعت کے کسی حکم اور اس کی کسی علت  کو قرآن و سنت  کی  نصوص سے ہی طے کیا جا سکتا ہے  سیرت کے واقعات  سے نہیں۔ مثلا ً  اگران واقعات    کی بنیاد  پر ہی نصوص کا استخراج ہونے لگے تو  روزہ، حج، زکوٰۃ جیسی عبادات کا قیام، حدود کا نفاذ، سود ، شراب اور جوئے کی حرمت سب  ختم ہو جائیں گے۔ کیونکہ یہ سب بھی  ریاست مدینہ قائم کرنے  سے پہلے فرض نہیں تھے۔    لیکن اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ سب احکامات واجب ہیں کیونکہ ان  کے بارے میں کہیں  مسلمان حاکم  یا اسلامی ریاست کے موجود ہونے کی  علت  قرآن و وسنت  میں موجود نہیں ہے ۔ تو بین ہی یہ معاملہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے حکم کا بھی  ہے۔ جیسے ’ کتب علیکم الصیام ‘کے لیے حاکم  یاریاست کی شرط قرآن و سنت میں موجود نہیں،  ویسے ہی  ’کتب علیکم القتال ‘کے لیے بھی حاکم  یا ریاست کی شرط کا وجود نہیں۔ اور اگر بلا ثبوت’ کتب علیکم القتال ‘کے لیے سیرت کے واقعات سے من گھڑت علت اخذ کی جائے گی  تو’ کتب علیکم الصیام‘ کے لیے بھی اسے اخذ کرنا پڑے گا۔

 

 

 

This website uses cookies and asks your personal data to enhance your browsing experience. We are committed to protecting your privacy and ensuring your data is handled in compliance with the General Data Protection Regulation (GDPR).